encyclopedia

ام المومنین حضرت جویریہ رضی الله عنہا | عابدہ و متقی زوجہ

Published on: 17-Apr-2025
ام المومنین حضرت جویریہ بنت حارث رضی الله عنہاپیدائیش:608عیسویوفات:50 ہجری ، 670 عیسویوالد:حارث بن ابی ضرار رضی الله عنهشوہر:حضرت محمد ﷺلقب:ام المومنینقبیلہ:بنو مطلقمزار مبارک:جنت البقیع

ام المومنین حضرت جویریہ Radi Allah Anha کا تعلق قبیلہ خزاعہ کے خاندان بنومصطلق سے تھا۔ آپ Radi Allah Anha کا اصل نام برّہ تھا جس کو آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے جویریہ سے تبدیل کردیا تھا۔ 1 آپ Radi Allah Anha کے والد حارث بن ابی ضرار خاندانِ بنو مصطلق کے نامی گرامی سردار تھے۔ 2 آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے نکاح میں آنے سے قبل آپ Radi Allah Anha مسافع بن صوفان المصطلقی کے نکاح میں تھیں۔ 3 لیکن بعد میں جنگی قیدی بنیں اور آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے باقاعدہ آپ Radi Allah Anha کا فدیہ دے کر آپ Radi Allah Anha کو آزاد کروایا اور پھر آپ Radi Allah Anha سے نکاح فرمایا۔ 4

آپ Radi Allah Anha کا مکمل نام و نسب

حضرت جویریہ Radi Allah Anha کا پورا نام وشجرہ نسب جویریہ بنت الحارث بن ابی ضرار بن حبيب بن الحارث بن عائذ بن مالك بن جذيمہ (جو المصطلق تهے) بن سعيد بن عمرو بن ربيعہ بن حارثہ بن عمرو مزيقاء بن عامر بن حارثہ بن امرؤ القيس بن ثعلبہ بن مازن بن الازد تھا۔ 5

حضرت جویریہ Radi Allah Anha بحیثیتِ سردار کی بیٹی

حضرت جویریہ Radi Allah Anha اپنے قبیلہ کے سردار حارث بن ابو ضرار کی بیٹی تھیں۔ ان کے والد نے رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے خلاف آس پاس کے قبائل کو جمع کیا تاکہ مدینہ منورہ پر حملہ کرسکیں اور اپنا ایک جاسوس مدینہ منورہ بھیجا جو پکڑا گیا۔ حضرت عمر Radi Allah Anho نے تفتیش شروع کی تو اس نے بتایا کہ اس کا تعلق قبیلہ بنو مصطلق سے ہے اور ان کا سردار رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے خلاف لشکر کشی کا ارادہ کرچکا ہے۔ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے یہ سننے کے باجود اس کو اسلام لانے کی دعوت دی جس کو اس نے قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ اپنی قوم کے ساتھ ہے اور اسے ان کی آمد کا انتظار ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر Radi Allah Anho نے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی اجازت سے اس جاسوس کو اس کے انجام تک پہنچا دیا۔ 6

غزوہ بنو مصطلق اورحضرت جویریہ Radi Allah Anha کی قید

رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے لشکر کو تیار کیا اور حارث بن ضرار کی سرکوبی کے لیے روانہ ہوئے۔ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے مریسیع کے مقام پر جاکر پڑاؤ کیا اور لشکر کی صف بندی فرمائی۔ مہاجرین کا جھنڈا حضرت ابو بکر Radi Allah Anho کے ہاتھ میں اور انصار کا جھنڈا حضرت سعد بن عبادہ Radi Allah Anho کو سپرد کیا۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے صف بندی کے بعد حضرت عمر Radi Allah Anho کو حکم دیا کہ کفار کے لشکر کو اسلام کی دعوت پیش کریں۔ اسلام کی دعوت دشمنان اسلام کو سخت ناگوار گزری جسے سن کر انہوں نے آگے سے تیر برسانے شروع کردیے۔ لشکر اسلام نے بھی تھوڑی دیر تک تیروں سے جواب دے کر مقابلہ کیا اور پھر رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے حکم سے دشمن پر حملہ آور ہوگئے جس کے سامنے لشکر کفار ٹِک نہ سکا۔ دشمن کے 10 آدمی مارے جانے کے بعد باقی لوگوں کو قیدی بنا لیا گیا۔ جنگ میں فتح کے بعد مسلمان مال غنیمت لے کر مدینہ منورہ روانہ ہو گئے۔ مدینہ منورہ میں تمام مال اور قیدی صحابہ کرام Radi Allah Anhum میں تقسیم کردیا گیا۔ 7

حضرت جویریہ Radi Allah Anha مال غنیمت کی تقسیم کے وقت حضرت ثابت بن قیس بن شماس Radi Allah Anho کے حصہ میں آئیں۔ انہوں نے حضرت جویریہ Radi Allah Anha سے فرمایا کہ مجھے ایک متعین رقم ادا کرو اور اپنے آپ کو آزاد کرالو۔ حضرت جویریہ Radi Allah Anha نے اس بات کو بخوشی قبول کیا لیکن مسئلہ مال کی ادائیگی کا تھا جس کا حل انہوں نے یہ نکالا کہ وہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے دربار اقدس میں سوالی بن کر حاضر ہوئیں اور عرض کی:

…يا رسول اللّٰه، أنا جويرية بنت الحارث ابن أبي ضرار، سيد قومه، وقد أصابني من البلاء، ما لم يخف عليك فوقعت في سهم لثابت بن قيس بن الشماس أو لابن عم له فكاتبته على نفسي فجئتك أستعينك على كتابتي… 8
یارسول اللہ (Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam) ! میں جویریہ بنت حارث بن ابو ضرار ہوں، (میرے والد) اپنی قوم کے سردار ہیں، مجھ پر جو آزمائش آئی ہوئی ہے اس سے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam بخوبی باخبر ہیں۔ میں مال غنیمت کے طور پر ثابت بن قیس الشماس یا اس کے چچازاد بھائی کے حصہ میں آئی ہوں۔ لہذا انہوں نے میری رہائی کے عوض مجھ سے مکاتبت کا معاملہ کرلیا ہے جس کی ادائیگی کے لیے میں آپ سے مدد طلب کرنے آئی ہوں۔

رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے ان کی درخواست سنی تو فرمایا کہ اگر وہ چاہیں تو آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ان کی طرف سے سارا مال ادا کرنے کو تیار ہیں جس سے وہ آزاد ہوجائینگی اور اس کے بعد اگر وہ پسند فرمائیں تو آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam ان سے نکاح بھی کرسکتے ہیں۔ حضرت جویریہ Radi Allah Anha نے جب یہ سنا تو بِلاپس وپیش اس پیشکش کو قبول فرمالیا۔ 9

حارث بن ضرار کا قبول اسلام

جنگ کے بعد حارث بن ضرار کو جب پتہ چلا کہ اس کی بیٹی بھی مسلمانوں کی قید میں ہے تو وہ اپنے ساتھ کئی سارے اونٹ لے کر مدینہ منورہ پہنچا تاکہ اپنی بیٹی کا فدیہ دے کر حضرت جویریہ Radi Allah Anha کو چھڑا سکے۔ اس نے آتے ہوئے دو قیمتی اونٹ ایک گھاٹی میں چھپا لیے۔ جب رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے دربار میں پہنچا اور اپنے آنے کا مقصد بیان کیا تو رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے فرمایا:

…فأين البعيران اللذان غيبتهما بالعقيق، في شعب كذا وكذا؟ فقال الحارث: أشهد أن لا إله إلا اللّٰه، وأنك محمد رسول اللّٰه… 10
وہ دو اونٹ کہاں ہیں جن کو تم نے وادی عقیق کی فلاں فلاں گھاٹی میں چھپایا ہے؟ یہ سن کر حارث بن ضرار کہنے لگا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،اور آپ محمد اللہ کے رسول ہیں۔

آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا حضرت جویریہ Radi Allah Anha سے نکاح اور مہر

حضرت حارث بن ضرار Radi Allah Anho نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سے خود اپنی بیٹی کا نکاح کروایا اور 400 درہم مہر مقرر فرمایا۔ 11 واقدی Rehmatullah Alaih فرماتے ہیں کہ آپ Radi Allah Anha کا مہر ان کے قبیلہ کے 40 افراد کی آزادی مقرر ہوا۔ 12 جبکہ ایک روایت کے مطابق آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے حضرت جویریہ Radi Allah Anha کی طرف سے 9 اوقیہ چاندی بطورِ فدیہ کے خود ادا فرما کر ان کو پہلے آزاد کیا اور پھر ان سے نکاح کیا۔ 13

صحابہ کرام Radi Allah Anhum کا احترام رسول Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam

رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے جب حضرت جویریہ Radi Allah Anha سے نکاح فرمالیا اور حضرت حارث Radi Allah Anho بھی مسلمان ہوگئے تو صحابہ کرام Radi Allah Anhum نے رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے سسرالی رشتہ کے احترام میں اپنے تمام قیدی رہا کردیے ۔14 اسی لئے حضرت عائشہ Radi Allah Anha فرمایا کرتی تھیں کہ انہوں نے حضرت جویریہ Radi Allah Anha سے زیادہ بابرکت خاتون نہیں دیکھیں جن کی وجہ سے ان کے قبیلہ کے کئی سو افراد نے رہائی پائی۔ 15

سیرت وصورت

حضرت عائشہ Radi Allah Anha فرماتی ہیں کہ حضرت جویریہ Radi Allah Anha انتہائی حسین شکل وصورت اور بہترین اداؤں والی خاتون تھیں۔ 16 آپ Radi Allah Anha انتہائی زاہدہ، عابدہ، متقی اور پرہیزگار خاتون تھیں۔ ذکر و اذکار کی کثرت فرمایا کرتی تھیں۔ ایک دن رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam فجر کی نماز کے لیے تشریف لے جارہے تھے اس وقت آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے حضرت جویریہ Radi Allah Anha کو جائے نماز پر بیٹھے ذکر و اذکار میں مشغول پایا۔ کافی دیر کے بعد آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam اشراق کے وقت واپس اپنے کاشانہ اقدس میں تشریف لائے تو حضرت جویریہ Radi Allah Anha اسی مقام پر تشریف فرما ہوکر حسب سابق ذکر واذکار میں مشغول تھیں۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے ان سے پوچھا کہ وہ کیا پڑھ رہی ہیں۔ حضرت جویریہ Radi Allah Anha نے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کو اپنے ذکر واذکار کے بارے میں بتایا جس کو سن کر آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam نے فرمایا کہ چار كلمات ایسے ہیں کہ اگر ان کو تین تین مرتبہ پڑھا جائے تو ان کا اجر ان تمام ذکر واذکار سے زیادہ ہے جو انہوں نے صبح سے ابھی تک کیے ہیں۔ وہ کلمات یہ ہیں:

سبحان اللّٰه ‌عدد ‌خلقه، وسبحان اللّٰه ‌رضاء نفسه، وسبحان اللّٰه ‌ زنة عرشه، وسبحان اللّٰه ‌ مداد كلماته. 17
اللہ تعالی کے لیے ہی پاکیزگی ہے اس کی مخلوق کی تعداد کے بقدر، اور پاکیزگی ہے اللہ تعالی کے لیے اس کی رضامندی کے بقدر، اور پاکیزگی ہے اللہ تعالی کے لیے عرش کے وزن کے بقدر، اور پاکیزگی ہے اللہ تعالی کے لیے اس کے کلمات کی سیاہی کے بقدر۔

حضرت جویریہ Radi Allah Anha فرائض کے علاوہ نوافل کا اہتمام بھی کثرت کے ساتھ فرمایا کرتی تھیں اور رمضان شریف کے علاوہ عام ایّام میں بھی بالخصوص جمعہ کا روزہ رکھا کرتی تھیں۔ 18

وصال

ام المومنین حضرت جویریہ Radi Allah Anha کا وصال 50 ہجری میں 65 سال کی عمر میں حضرت امیر معاویہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے دورِ حکومت میں ہوا۔ آپ Radi Allah Anha کی نماز جنازہ مروان بن حکم نے پڑھائی۔ 19 آپ Radi Allah Anha کا مزار مبارک جنت البقیع میں واقع ہے۔


  • 1  ابو الفتح محمد بن محمدابنِ سید الناس، عیون الاثر فی فنون المغازی والشمائل والسیر، ج-2، مطبوعۃ: دارالقلم، بیروت، لبنان، 1993 م، ص: 372
  • 2  عزالدین علی ابن محمد الشیبانی ابن الأثیر الجزری، أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، ج-1، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 1994م، ص: 617
  • 3  ابو الفتح محمد بن محمدابنِ سید الناس، عیون الاثر فی فنون المغازی والشمائل والسیر، ج-2، مطبوعۃ: دارالقلم، بیروت، لبنان، 1993 م، ص: 372
  • 4  ابوبکر احمد بن الحسین البیہقی، دلائل النبوة ومعرفة أحوال صاحب الشريعة ﷺ، ج-4، مطبوعۃ: دارالکتب العلمیة، بیروت، لبنان، 1988م، ص: 50
  • 5  ابو العباس احمد بن علی الحسینی المقریزی،امتاع الاسماع بما للنبیﷺ من الاحوال والاموال والحفدۃ والمتاع، ج-6، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 1999م، ص: 82-83
  • 6  ابو عبداللہ محمد بن عمرالواقدی، المغازی، ج-1، مطبوعۃ: دارالاعلمی، بیروت، لبنان، 1989م، ص: 406
  • 7  ابو عبد اللہ محمد بن سعد البصری، الطبقات الکبری، ج-2، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 1990م، ص: 49
  • 8  ابو حاتم محمد بن حبان البستی الدارمی، السیرۃ النبویۃ وأخبار الخلفاء، ج-1، مطبوعۃ: الکتب الثقافیۃ، بیروت، لبنان، 1417ھ، ص: 274
  • 9  ابوبکر احمد بن الحسین البیہقی، دلائل النبوة ومعرفة أحوال صاحب الشريعةﷺ، ج-4، مطبوعۃ: دارالکتب العلمیة، بیروت، لبنان، 1988م، ص: 50
  • 10  ابو محمد عبد الملک بن ھشام المعافري، السیرۃ النبویۃ لابن ھشام، ج-2، مطبوعۃ: مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، القاھرۃ، مصر، 1955م، ص: 295
  • 11  ایضاً، ص: 296
  • 12  ابو عبداللہ محمد بن عمرالواقدی، المغازی، ج-1، مطبوعۃ: دارالاعلمی، بیروت، لبنان، 1989م، ص: 412
  • 13  ابو عبد اللہ محمد بن سعد البصری،الطبقات الکبری، ج-2، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 1990م، ص: 49
  • 14  ابو القاسم عبد الرحمن بن عبد اللہ السھیلی، الروض الأنف في شرح السيرة النبوية لابن هشام، ج-7، مطبوعۃ: دار إحیاء التراث العربی، بیروت، لبنان ،2000م، ص: 27
  • 15  ابو العباس احمد بن علی الحسینی المقریزی،امتاع الاسماع بما للنبیﷺ من الاحوال والاموال والحفدۃ والمتاع، ج-6، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 1999م، ص: 82
  • 16  ابو الفتح محمد بن محمدابنِ سید الناس، عیون الاثر فی فنون المغازی والشمائل والسیر، ج-2، مطبوعۃ: دارالقلم، بیروت، لبنان، 1993 م، ص: 372
  • 17  أبو عبد اللہ أحمد بن محمد الشیبانی، مسندالامام احمد بن حنبل، حدیث: 27421، ج-45، مطبوعۃ: مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، لبنان، 2001م، ص: 411
  • 18  ابو بكر أحمد بن عمرو العتكي المعروف بالبزار، مسند البزار المنشور باسم البحر الزخار، حدیث:2350، ج-6، مطبوعۃ: مكتبة العلوم والحكم، المدينة المنورة، السعودیۃ، 2009م، ص: 341
  • 19  ابو عبد اللہ محمد بن سعد البصری،الطبقات الکبری، ج-8، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 1990م، ص: 95

Powered by Netsol Online