encyclopedia

تعارفِ حضرت یعقوب علیہ السلام

Published on: 18-Jun-2026

حضرت یعقوب ، حضرت اسحاق کے فرزند اور حضرت ابراہیم کے پوتے تھے۔ آپ ہی کو اسرائیل کا لقب عطا ہوا، اور آپ ہی کی اولاد سے بنی اسرائیل کے تمام قبائل وجود میں آئے۔ آپ نہایت باوقار، صاحبِ کردار اور پاکیزہ سیرت والے نبی تھے۔1 کتاب مقدس جب حضرت اسحاق نے 40 برس کی عمر میں رِفقا بنت بتوئیل سے نکاح کیا تو ابتدائی عرصے میں رِفقا بانجھ تھیں، مگر حضرت اسحاق کی دعا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں جڑواں بیٹوں کی نعمت عطا فرمائی۔ ایک بیٹے کا نام عیصو (Esau)رکھا گیا جو اہلِ روم کا جدِّ امجد شمار ہوتا ہے، جبکہ دوسرے بیٹے کا نام یعقوب رکھا گیا جو بنی اسرائیل کے جدِّ امجد ہیں۔ پہلوٹا ہونے کی بنا پر اسحاق کو عیصو سے زیادہ محبت تھی، اور یعقوب اپنی کم سنی اور نرم خو فطرت کی وجہ سے اپنی والدہ رِفقا کے زیادہ محبوب تھے۔2

حضرت یعقوب کے نکاح

تورات کے مطابق ان دونوں بھائیوں کے درمیان چپقلش تھی جس کی وجہ سے یعقوب اپنی والدہ کے اشارہ پر فدان ارام(Paddan Aram) اپنے ماموں لامان کے پاس چلے گئے۔ لامان نے ان سے یہ عہد لیا کہ وہ 10 سال ان کےیہاں رہ کر ان کی بکریاں چرائیں تو وہ اس مدت کو مہر قرار دے کر اپنی لڑکی سے ان کی شادی کردیں گے۔ جب حضرت یعقوب نے مدت پوری کردی تو لابان نے اپنی لڑکی لیئہ سے ان کا نکاح کرنا چاہا مگر یعقوب نے اپنا رجحان طبع چھوٹی لڑکی راحیل(Rachel) کی جانب ظاہر کیا۔ لابان نے یہ عذر کیا کہ یہاں کے دستور کے مطابق بڑی لڑکی کے نکاح سے قبل چھوٹی لڑکی کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ لابان نےحضرت یعقوب سے کہا کہ تم اس رشتہ کو منظور کرو، اور اپنے قیام کو 10 سال اور طویل کرو اور میری خدمت میں رہو تو راحیل بھی تمہارے نکاح میں دی جاسکے گی کیونکہ اس زمانے میں دو بہنوں کا ایک شخص کے نکاح میں جمع ہونا شرعاً ممنوع نہ تھا۔ چنانچہ حضرت یعقوب نے اس مدت کو بھی پورا کردیا، اور راحیل سے بھی شادی کرلی۔ ان دونوں کے علاوہ لیئہ کی خانہ زاد زلفا اور راحیل کی خانہ زاد بلہا بھی ان کی زوجیت کے رشتے میں منسلک ہوگئیں اور ان سب سے اولاد ہوئی۔ بنیامین کے علاوہ حضرت یعقوب کی تمام اولاد اپنے ماموں کے ہاں ہی پیدا ہوئی اور جب آپ وطن واپس آگئے تو یہاں بنیامین پیدا ہوئے۔ لابان نے حضرت یعقوب کو 20 سال اپنے پاس رکھنے کے بعد بہت سا مال ومتاع اور ریوڑ دے کر رخصت کیااور یوں حضرت یعقوب اپنے دادا کے دار الہجرت فلسطین میں آگئے۔ 3

حضرت یعقوب کا انتقال

اس کے بعد حضرت یعقوب اپنے آبائی وطن کنعان ہی میں رہائش پذیر رہے۔ 4 یہاں تک کہ جب یوسف مصر کے وزیر خزانہ مقرر ہوئے توحضرت یعقوب اپنے خاندان سمیت مصر تشریف لے گئے۔5 حضرت یعقوب نے اپنی حیاتِ مبارکہ کے آخری 17 برس مصر میں گزارے اور 140 سال کی عمر میں وفات پائی۔ وفات سے قبل آپ نے اپنے فرزندِ ارجمند یوسف کو وصیت فرمائی کہ انہیں اپنے آباء و اجداد کے پہلو میں سرزمینِ فلسطین میں دفن کیا جائے۔ چنانچہ حضرت یوسف نے مصر کے بادشاہ سے باقاعدہ اجازت حاصل کی اور ملک کے معززین و بزرگوں کے ہمراہ ایک باوقار قافلے کی صورت میں آپ کے جسدِ مبارک کو فلسطین منتقل کیا، جہاں آپ کو حبرون کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔6

تورات میں حضرت یعقوب کا ذکر

تورات میں حضرت یعقوب کی حیات و سیرت نہایت تفصیل کے ساتھ مذکور ہے، جس میں آپ کی ولادت، عیصو کے ساتھ تعلقات، والدین کی تربیت، حضرت اسحاق کی دعائیں، لابان کے ہاں قیام، بیویوں اور اولاد کا ذکر، بنی اسرائیل کے 12 قبائل کی تشکیل، اور آخر میں مصر کی طرف ہجرت جیسے اہم واقعات شامل ہیں۔ چنانچہ سفر پیدائش میں ہے:

اضحاق (اسحاق ) 40 برس کا تھا جب اس نے ربقہ (رفقا) سے بیاہ کیا جو فدّان ارام کے باشندہ بیتو ایل ارامی کی بیٹی اور لابن ارامی کی بہن تھی۔ اضحاق نے اپنی بیوی کے لیے خداوند سے دعا کی کہ وہ بانجھ تھی۔ خداوند نے اس کی دعا سنی اور اس کی بیوی ربقہ حاملہ ہوئی۔ 7 جب اس کی زچکی کا وقت آگیا تب پتہ چلا کہ اس کے رحم میں جڑواں بچے ہیں۔ جو پہلے پیدا ہوا وہ سرخ تھا اور اس کا سارا جسم بالوں سے بُنے ہوئے کپڑے کی طرح تھا۔ اس لیے انہوں نے اس کا نام عیسو رکھا۔ اس کے بعد اس کا بھائی پیدا ہوا جو اپنے ہاتھ سے عیسو کی ایڑی پکڑے ہوئے تھا اس لیے اس کا نام یعقوب رکھا گیا (عقب عبرانی میں ایڑی کو کہتے ہیں)۔ جب ربقہ نے ان دونوں کو جنم دیا تب اضحاق 60 برس کا ہوچکا تھا۔پھر لڑکے بڑے ہوگئے اور عیسو ماہر شکاری بن گیا، اسے کھلی جگہ میں رہنا پسند تھا۔ اور یعقوب خاموش طبع انسان تھا ، اسے خیموں میں رہنا اچھا لگتا تھا۔ 8 اضحاق نے یعقوب کو بلایا اور اسے برکت دی اور حکم دیا کہ تو کسی کنعانی لڑکی سے بیاہ نہ کرنا۔ فورا ً فدّان ارام کو اپنے نانا بیتوایل کے گھر چلا جا اور وہاں اپنے ماموں لابن کی بیٹیوں میں کسی سے بیاہ کرلے۔ قادرِ مطلق خدا تجھے برکت دے، تجھے برومند کرے اور تیرے گھر والوں کی تعداد اس قدر بڑھائے کہ ایک قوم وجود میں آجائے۔ 9وہ تجھے اور تیری نسل کو ابراہام کی سی برکت دے تاکہ تو اس ملک کو جہاں تو اس وقت پردیسی کے طورپر رہتا ہے اور جسے خدا نے ابرہام کو بخشا تھا، اپنے قبضہ میں لے آئے۔10 یعقوب بیر سبع سے نکل کر حاران کی طرف چل دیا۔11 اور یعقوب نے اپنا سفر جاری رکھا اور وہ مشرق میں رہنے والے لوگوں کے ملک میں جا پہنچا۔12 جو نہی لابن کو اپنے بھانجے، یعقوب کی خبر ملی، وہ اس سے ملنے کو دوڑا۔اس نے اسے گلے سے لگایا اور چوما اور اسے اپنے گھر لے آیا اور وہاں یعقوب نے اسے ساری باتیں بتائیں۔ تب لابن نے اس سے کہا تو میرا اپنا گوشت اور خون ہے۔13 لابن کی دو بیٹیاں تھیں، بڑی کا نام لیاہ تھا اور چھوٹی کا نام راخل۔لیاہ کی آنکھیں کمزور تھیں لیکن راخل سڈول اور خوبصورت تھی۔ یعقوب راخل سے محبت کرتا تھا۔ لہٰذا اس نے (لابن سے) کہا کہ میں تیری چھوٹی بیٹی راخل کے لیے سات برس تیری خدمت کروں گا۔لابن نے کہا : اسے کسی اور آدمی کو دینے کی بجائے بہتر ہے کہ میں اسے تجھے دے دوں، لہٰذا تو میرے یہاں ٹِک جا۔ چنانچہ یعقوب سات برس تک راخل کی خاطر خدمت کرتا رہا لیکن راخل کی محبت میں وہ سات برس اسے سات دن کے برابر معلوم ہوئے۔ تب یعقوب نے لابن سے کہا کہ مجھے میری بیوی دے دے تاکہ میں اس کے پاس جاؤں کیونکہ خدمت کی میعاد پوری ہو چکی ہے۔ 14 لابن نے جواب دیا کہ ہمارے ہاں یہ رواج نہیں کہ بڑی بیٹی سے پہلے چھوٹی بیٹی کی شادی کر دی جائے۔اس بیٹی کا ہفتہ عرسی پورا کر، تب ہم چھوٹی بھی تجھے دے دیں گے لیکن تجھے اس کے عوض مزید 7 برس کا م کرنا ہوگا۔ اور یعقوب نے ایسا ہی کیا۔ اس نے لیاہ کے ساتھ ایک ہفتہ (یعنی سات برس کا عرصہ) پورا کیا تب لابن نے اپنی بیٹی راخل بھی اس سے بیاہ دی۔15 راخل نے (یعقوب سے) کہا : دیکھ میری خادمہ بلہاہ حاضر ہے ۔ اس کے پاس جا تاکہ میرے لیے بھی اس سے اولاد ہو اور اس کے ذریعے میں بھی ایک خاندان قائم کر سکوں گی۔چنانچہ اس نے اپنی خادمہ بلہاہ کو یعقوب کو دیاتاکہ وہ اس کی بیوی بنے۔ 16 جب لیاہ نے دیکھا کہ آیندہ(4 بیٹے پیدا ہونے کے بعد) اس کی اولاد نہیں ہوگی تو اس نے اپنی خادمہ زلفہ کو یعقوب کو دیا کہ اس کی بیوی بنے۔17 لابن کے بیٹوں کی کئی باتیں یعقوب کے سننے میں آئیں۔مثلاً یہ کہ یعقوب نے ہمارے باپ کا سب کچھ لے لیا ہے اور جو کچھ ہمارے باپ کا تھا اسی میں سے لے لے کر یہ سب دولت جمع کی ہے۔ اور یعقوب نے دیکھا کہ اب لابن کا رویہ پہلے جیسانہ تھا۔ تب خداوند نے یعقوب سے کہا :تو اپنے باپ دادا کے ملک کو اور اپنے رشتہ داروں کے پاس لوٹ جا اور میں تیرے ساتھ رہوں گا۔18 فدّان ارام سے آنے کے بعد یعقوب صحیح سلامت ملک کنعان میں سکم کے شہر تک پہنچا اور شہر کے نزدیک ہی خیمہ زن ہو گیا۔ 19 تب خدا نے یعقوب سے کہا :بیت ایل لوٹ جا اور وہیں بس جااور وہاں خدا کے لیے، جو تجھے اس وقت دکھائی دیا تھا جب تو اپنے بھائی عیسو سے بھاگا جارہا تھا ، ایک مذبح بنا۔ 20 اور خدا نے اس سے کہا : تیرا نام یعقوب ہے لیکن آیندہ تو یعقوب نہ کہلائے گا۔ تیرا نام اسرائیل ہوگا ۔ سو اس نے اس کا نام اسرائیل رکھا۔ 21 یعقوب کے 12 بیٹے تھے: ان میں سے لیاہ کے یہ بیٹے تھے: روبن (یعقوب کا پہلوٹھا)، شمعون، لاوی، یہوداہ، اشکار اور زبولون۔ اور راخل کے بیٹے یوسف اور بن یمین تھے۔ راخل کی خادمہ بلہاہ کے بیٹے دان اور نفتالی تھے۔ اور لیاہ کی خادمہ زلفہ کے بیٹے جد اور آشتر تھے۔ یہ سب یعقوب کے بیٹے تھے جو اس سے فدان ارام میں پیدا ہوئے تھے۔ 22 یعقوب (یوسف کے بلاوے پر ) بیر سبع سے روانہ ہوا اور یعقوب کے بیٹے اپنے باپ یعقوب اور اپنے بال بچوں اور اپنی بیویوں کو ان گاڑیوں میں لے کر گئے جو فرعون نے ان کی سواری کے لیے بھیجی تھیں۔ اور وہ اپنے مویشیوں اور سارے مال واسباب کو بھی ساتھ لے گئے جو انہوں نے ملک کنعان میں جمع کیا تھا اور یعقوب اپنی ساری اولاد سمیت مصر چلا گیا۔23 یعقوب نے (آخری ایام میں اپنے بیٹوں کو جمع کر کے ) ان سے کہا کہ میں اب جلد ہی اپنے لوگوں میں جا ملوں گا۔ مجھے اپنے باپ دادا کے ساتھ اس غار میں دفن کرنا جو حتی عفرون کے کھیت میں ہے۔ 24 جب یعقوب اپنے بیٹوں کو وصیت کر چکا تو اس نے اپنے پاؤں بستر پر سمیٹ لیے اور آخری سانس لی اور اپنے لوگوں میں جا ملا۔ 25 چنانچہ یعقوب کے بیٹوں نے ویسا ہی کیا جیسا اس نے انہیں حکم دیا تھا۔ وہ اسے ملک کنعان لے گئے اور اسے ممرے کے نزدیک مکفیلہ کے کھیت کے اس غار میں دفن کیا جسے ابرہام نے حتی عفرون سے کھیت سمیت قبرستان کے لیے خریدا تھا۔26

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حضرت یعقوب سلسلۂ ابراہیمی کے ایک عظیم المرتبت نبی، بنی اسرائیل کے جدِّ امجد اور اس مبارک خانوادے کی مرکزی شخصیت ہیں جن کی اولاد میں کثیر انبیاء ﷨ اتشریف لائے۔ قرآنِ مجید نے آپ کا ذکر ایمان، صبر، توحید، وصیتِ دینی اور تسلیم و رضا کے نمایاں پہلوؤں کے ساتھ کیا ہے، جبکہ کتاب مقدس میں آپ کی ولادت، خاندانی حالات، نکاح، اولاد، لقبِ اسرائیل، کنعان سے مصر ہجرت، وصیت اور تدفین کے واقعات نسبتاً تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں۔ اس کے علاوہ حضرت یعقوب سے نبی آخر الزماں ﷺ کی آمد سے متعلق متعدد بشارات بھی منقول ہیں، جن کے آثار کتابِ مقدس کے موجودہ متن میں پائے جاتے ہیں۔ ان بشارات کی تفصیلی تحقیق "بشاراتِ حضرت یعقوب " نامی مقالہ میں پیش کی جائے گی۔


  • 1  أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة الدينوري، المعارف، ج-1، مطبوعة: الهيئة المصرية العامة للكتاب، القاهرة، مصر، 1992م، ص: 39
  • 2  أبو الفداء إسماعيل بن عمر ابن كثير الدمشقي، قصص الأنبياء، ج-1، مطبوعة: مطبعة دار التأليف، القاهرة، مصر، 1968م، ص: 297
  • 3  محمد حفظ الرحمن سیوہاروی، قصص القرآن، ج-1،مطبوعہ: مکتبہ رحمانیہ، لاہور، پاکستان، تاریخ اشاعت ندارد، ص: 200
  • 4  أبو جعفر محمد بن جریر الطبری، جامع البيان عن تأويل آي القرآن المعروف بتفسير الطبری، ج-13، مطبوعة: دار هجر، الجيزة، مصر، 2001م، ص: 362
  • 5  أبو عبد اﷲ محمد بن عمر فخر الدین الرازي، مفاتیح الغیب المعروف بتفسير الرازي، ج-18، مطبوعة: دار إحیاء التراث العربي، بیروت، لبنان، 1420هـ، ص: 509
  • 6  أبو الفداء إسماعيل بن عمر ابن كثير الدمشقي، قصص الأنبياء، ج-1، مطبوعة: مطبعة دار التأليف، القاهرة، مصر، 1968م، ص: 357 - 358
  • 7  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش25 : 20-21 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 23)
  • 8  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش25 : 24-27 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 23)
  • 9  تورات کے موجودہ تحریف شدہ نسخے میں یعقوب اور عیسو کے درمیان پیش آنے والی جس چپقلش کا ذکر کیا جاتا ہے،بالخصوص اس واقعہ کا کہ اسحاق نے عیصو سے شکار طلب کیا اور یعقوب نے بکری ذبح کرکے اپنے والد کے سامنے پیش کی اور نعوذ باللہ خود کو عیصو ظاہر کیا۔ (کتابِ مُقدس، سفر پیدائش27: 1-46 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 25-27) یہ بیانیہ اسلامی عقیدہ و اصولِ نبوت کے خلاف ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں انبیاء علیہم السلام معصوم ہوتے ہیں، یعنی گناہِ کبیرہ تو دور کی بات، جھوٹ جیسے افعال بھی ان کی شانِ نبوت کے منافی ہیں۔ چنانچہ تورات کے اس بیان کو اہلِ علم نے یہود کی بعد ازاں کی گئی تحریفات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔(محمد رحمت اللہ کیرانوی (مترجم: مولانا ڈاکٹر محمد اسماعیل عارفی)، ازالۃ الاوہام، ج-1، مطبوعہ: مکتبہ دار العلوم، کراچی، پاکستان، 2010ء، ص: 125-126)
  • 10  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش28: 1-4 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 27)
  • 11  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش28: 10 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 27)
  • 12  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش29: 1 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 27)
  • 13  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش29: 13-14 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 28)
  • 14  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش29: 16-21 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 28)
  • 15  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش29: 26-28 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 28)
  • 16  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش30: 3-4 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 29)
  • 17  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش30: 9 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 29)
  • 18  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش31: 1-3 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 30)
  • 19  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش33: 18 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 34)
  • 20  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش35: 1 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 35)
  • 21  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش35: 10 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 35)
  • 22  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش35: 23-26 ( مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 36)
  • 23  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش46: 5-6 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 48-49)
  • 24  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش49: 29 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 53)
  • 25  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش49: 33 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 53-54)
  • 26  کتابِ مُقدس، سفر پیدائش50: 12-13 (مطبوعہ: بائبل انٹر نیشنل سوسائٹی، دہلی، انڈیا، 2005ء، ص: 54)

Powered by Netsol Online